اتوار 2 اگست 2026 - 23:57
اربعین حضرت زینب (س) کے لازوال پیغام کی برکت ہے: آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی

حوزہ/ مرجع تقلید، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے کہا ہے کہ اربعین کی عظیم تحریک حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے اس ابدی پیغام کا ثمر ہے کہ حق کی آواز کبھی خاموش نہیں ہو سکتی، حوزہ ہائے علمیہ کو نئے شبہات اور فکری چیلنجز کا جواب دینے کے لیے اپنی علمی گہرائی اور جامعیت کو ہمیشہ برقرار رکھنا ہوگا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرجع تقلید، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے کہا ہے کہ اربعین کی عظیم تحریک حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے اس ابدی پیغام کا ثمر ہے کہ حق کی آواز کبھی خاموش نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ حوزہ ہائے علمیہ کو نئے شبہات اور فکری چیلنجز کا جواب دینے کے لیے اپنی علمی گہرائی اور جامعیت کو ہمیشہ برقرار رکھنا ہوگا۔

آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے عدلیہ کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین غلام حسین محسنی اژہ ای سے ملاقات کے دوران اربعین حسینی کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اربعین، ثقافتِ "یا حسینؑ" اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے اس لازوال پیغام کا نتیجہ ہے کہ حق کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ کے خطبات صرف مصائب کا بیان نہیں تھے بلکہ اموی جبر کے نظریے کے خلاف ایک مضبوط فکری اعلان تھے۔ آپؑ کا تاریخی جملہ "ما رأیتُ إلا جمیلاً" اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ ظلم کے ذمہ دار ظالم ہیں، نہ کہ خداوند متعال، اور انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔

آیت اللہ جوادی آملی نے کہا کہ تفسیرِ تسنیم کی تدوین چالیس برسوں پر محیط مسلسل علمی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس میں متعدد نسلوں کے اساتذہ اور طلبہ نے نئے علمی سوالات اور شبہات کا جواب دینے کے لیے اجتماعی کردار ادا کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حوزہ ہائے علمیہ کو بدلتے زمانے کے فکری اور اعتقادی چیلنجز کا جواب دینے کے لیے مسلسل علمی تحقیق جاری رکھنی چاہیے اور آزادی، اختیار اور دیگر بنیادی اسلامی مباحث کو مضبوط علمی انداز میں پڑھایا اور واضح کیا جانا چاہیے۔

مرجع تقلید نے مزید کہا کہ اسلامی فقہ میں فیصلے غیب کے علم پر نہیں بلکہ شرعی دلائل، گواہی اور قسم کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، اگرچہ معصومین علیہم السلام علمِ غیب رکھتے تھے۔

انہوں نے مؤمنین کی اجتماعی قربانیوں اور اسلامی انقلاب کے دفاع کو نصرتِ الٰہی کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی مدد فرمائی، اسی طرح آج بھی وہ اہل ایمان کی نصرت پر قادر ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر آیت اللہ جوادی آملی نے تمام شہدائے اسلام و انقلاب، خصوصاً رہبرِ شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرمائے اور اسلامی نظام کے خدمت گزاروں کو حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور تک اس امانت کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha